جب مسائل بے شمار ہوں تو کسی ایک پر توجہ دینا لاحاصل کوشش محسوس ہوتی ہے۔ تنازعے اور اندرونی خلفشار کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں خارجہ پالیسی کے امور پر توجہ اور بھی فضول نظر آتی ہے۔ مگر بغور دیکھیں تو ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی کی جڑیں خارجہ امور کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان اور شمال مغربی سرحد پر بگڑتے ہوئے حالات اِن امور میں اہم ترین ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمیں یہ سننا بھلا محسوس نہ ہو مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت پاکستان کی افغانستان اور فاٹا سے متعلق پالیسی بدترین انتشار اور ابہام کا شکار ہو چکی ہے۔ چند ماہ پہلے تک ہمیں یہ محاذ اپنے قابو میں نظر آ رہا تھا۔ ہماری پالیسی کے تین بڑے ستون (یا مفروضے) مستحکم کھڑے تھے۔
تلاش کریں۔۔۔۔
لیبلز: موضوعات
سائیٹ آمدورفت
اراکین
لکھاری
Tuesday, November 12, 2013
بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے کے بل کی منظوری اور مفاد پرستی کی سیاست
بلدیاتی الیکشن ملتوی
کرانے کے بل کی منظوری اور مفاد پرستی کی سیاست
ازافسرخان
بلدیاتی الیکشن ملتوی
کرانے کےلئے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا بل کثرت رائے سے منظور کرالیا
گیا۔اس بل کو پاس کرانے کے لئے سیاسی جماعتوں کا یکجا اور یک زبان ہونا کوئی
اچھنبے کی بات نہیں۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہےکہ عجلت میں کرائے جانے والے الیکشن
شفاف نہیں ہونگے اور اس کے نتائج مشکوک ہونگے۔ دراصل اس کا مفہوم یہ ہے کہ اتنے کم
وقت میں الیکشن کرانے سے ان صاحبان کو الیکشن جیتنے کی تدبیریں سوجھنے کا وقت ہی
نہیں ملے گا،
Tuesday, July 30, 2013
ایک نئی سیاسی لو اسٹوری ایاز خان پير 29 جولائ 2013
ڈاکٹر عشرت العباد ریکارڈ ساز شخصیت بن گئے ہیں۔ ان سے زیادہ لکی کوئی اور ہو سکتا ہے؟ موصوف کو سندھ کا گورنر بنے پونے گیارہ سال کے قریب ہو چکے ہیں۔ اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے لیے ڈکٹیٹر کو بھی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو اپنی گورنری بچانے کے لیے کچھ خاص محنت نہیں کرنا پڑتی۔ ان کی کوالی فکیشن ان کی جماعت ہے۔
بے اصولی کے سر پر اصولوں کی پگڑی جاوید چوہدری پير 29 جولائ 2013
یہ 26 جولائی 2013ء کا معجزہ تھا‘ پاکستان مسلم لیگ ن کا وفد ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو پہنچا‘ وفد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار ممنون حسین‘ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید شامل تھے‘ اس وفد کا نائین زیرو پہنچنا اور ایم کیو ایم کے جید رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار‘سینیٹر بابرخان غوری‘ حیدر عباس رضوی اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی طرف سے
Thursday, June 6, 2013
Tuesday, May 28, 2013
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے: (اکبر الٰہ آبادی)
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟
اپنے بچوں کو فیس بک پر آن کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔۔۔ ویڈیو دیکھیئے
Online Safety-28 May 2013 by GeoNews
اپنے بچوں کو فیس بک پر آن کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔۔۔ ویڈیو دیکھیئے


