بھارت جنگ جیت رہا ہے۔۔ مسلمان نسلوں کو ان کے عظیم ورثے سے محروم کر رہا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا انداز بدلتا ہے....ایک زمانہ تھا جب لوگ ڈنڈووں سے جنگ لڑتے تھے، اور شکار کیا کرتے تھے...جوں جوں انسانی ذہن ترقی کرتا گیا انسان نے مختلف ایجادات کئے....لکڑی کے ہتھیاروں سے آگے چل کر انسان نے تلوار، نیزے بنائے اور اور یوں گھوڑوں ، اونٹوں پر بیٹھ کر لڑنے لگا .... پھر آگے چل کر بندوق ایجاد ہوئی... ہوئی جہاز وغیرہ ایجاد ہوئے ....جب اس سے بھی انسان کی حیوانی سوچ اور تشدد پسندی کوتشنگی نہ ہوئی تو اس نے ایٹم ایجادکیا، طرح طرح کے جدید میزائل، جنگی جہاز، ٹینک، آبدوزیں، ڈرونز وغیرہ غیرہ ایجاد کئے...انسان ہمیشہ سے ایک دوسرے پر غالب آنے کی ہیجان رکھا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی بھی طرح سے اپنی ثقافت، اپنا تہذیب ، اپنا انداز ، اپنے رسم و رواجوں کو دوسروں پر تھومپ دے.... زمانہ اب جنگوں کے ان پرانے طریقوں سے آگے جاکر ایک نئی جہت میں داخل ہوچکا ہے جس کو ہم غرف عام میں ثقافتی جنگ کہہ سکتے ہیں.... مسلمانوں کے لئے اسلامی روایات ، اور حضورﷺ کے اسوہ حسنہ سے بڑھ کر کوئی راہ نجات نہیں... اسلام ہمارے لئے ایک مسلم ضابطہ حیات ہے اور ہمارے دشمنوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ ہمیں ہمارے اس عظیم ورثے سے محروم کرکے اپنے قبیح اور گندی تہذیبوں کو ہم پر مسلط کردیں ... اگر دیکھا جائے تو جنگ کے اس جدید انداز کو ہمارا ازلی دشمن بھارت جیتتا نظر آرہا ہے ... ہمارے بچوں ، خواتین اور مردوں کو بھی بھارتی ڈراموں اور ٹی وی پروگراموں کی لت ایسی لگی ہے کہ ان سے نکلنا دشوار نظر آرہا ہے...اگر ہمارے دانشور اور حکماء فورا ًاس امر پر توجہ نہ دی تو ہم کہنے پر مجبور ہونگے کہ بھارت جیت گیا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ خود بھی اندازہ لگا سکتے ہیں... یہ کوئی ایک گھر کی بات نہیں بلکہ اپنے گھر کے اندر ہی یہ ماحول آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔
تلاش کریں۔۔۔۔
لیبلز: موضوعات
سائیٹ آمدورفت
اراکین
لکھاری
Showing posts with label اسلام، اسلامک. Show all posts
Showing posts with label اسلام، اسلامک. Show all posts
Thursday, April 11, 2013
Wednesday, April 3, 2013
تزكيہ نفس
آيت اللہ ابراہيم اميني
ترجمہ: علامہ شيخ اختر عباس
نفس كے ساتھ جہاد
انسان كا سب سے بڑا دشمن اس كا نفس ہے اور وہ برابر عقل كے ساتھ جنگ اور تجاوز كى حالت ميں رہتا ہے_ شيطان كے وسوسوں سے الہام ليتا ہے اور لاو لشكر كے ساتھ عقل پر حملہ آور ہوتا ہے تا كہ اسے جدا اور خاموش كردے اور وہ تن تنہا ميدان پر قابو پائے ركھے اس كى غرض يہ ہے كہ فرشتوں كو نفس كى دنيا سے باہر نكال دے اور اسے پورى طرح شيطان كے قبضے ميں دے دے ايسے غدار دشمن كو سرنگوں كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے_ ارادہ حتمى اور مقابلہ بلكہ جہاد كرنا اس كے لئے ضرورى ہو جاتا ہے اور وہ بھى ايك دفعہ اور دو دفعہ يا ايك دن يا دو دن ايك سال يا دو سال نہيں بلكہ تمام عمر پے در پے جہاد كرنا ضرورى ہے _ اس سے سخت مقابلہ اور متصل جہاد چاہئے اور نفس اور روح كو رام كرنے اور اس كى خواہشات پر قابو پانے كے لئے بہت سخت جنگ كرنى پڑتى ہے_
Wednesday, March 27, 2013
فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت پر قابو پانے میں ناکامی ذیشان ظفر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے دو فرقوں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں اختلافات کو ابھارنے اور ان دونوں فرقوں میں صدیوں سے موجود اختلاف رائے کو پرتشدد کارروائیوں کی شکل دینے میں فرقہ وارانہ تحریری مواد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے برصغیر میں شیعہ سنی اختلافات پر فسادات کے واقعات پیش آتے تھے لیکن ان کی شدت یا شکل ایسی نہیں تھی جیسی کہ آج
Thursday, February 21, 2013
Wednesday, February 13, 2013
جسمانی اعضا کا کاروبار عروج پرہے،ادیب رضوی
جسمانی اعضا کا کاروبار عروج پرہے،ادیب رضوی
کراچی: سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے ڈائریکٹر ادیب رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال غیر قانونی طور پر جسمانی اعضا کا ایک ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے،اعضاء کی پیوندکاری کے بل کی منظوری سے اس گھناوٴنے کاروبار کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ایک مردہ جسم کے اعضاء سترہ انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔ادیب الحسن رضوی کے مطابق انسانی اعضاء کے کاروبار
کراچی: سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے ڈائریکٹر ادیب رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال غیر قانونی طور پر جسمانی اعضا کا ایک ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے،اعضاء کی پیوندکاری کے بل کی منظوری سے اس گھناوٴنے کاروبار کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ایک مردہ جسم کے اعضاء سترہ انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔ادیب الحسن رضوی کے مطابق انسانی اعضاء کے کاروبار
Thursday, January 31, 2013
ابو لہب کے متعلق قرآن مجید کی پیشین گوئی
ابو لہب کے متعلق قرآن مجید کی پیشین گوئی
کاتب: طارق اقبال
ابو لہب کا اصل نام عبدالعزٰی تھا۔ قرآن مجید میں صرف اسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں بھی اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طو رپر بھی کم نہ تھے۔ یہ شخص مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے قریبی ہمسایہ تھا، دونوں گھروں کے درمیا ن صرف ایک دیوار حائل تھی۔ یہ اور اس کے اہل خانہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی چین لینے نہیں دیا تھا۔ آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے
کاتب: طارق اقبال
ابو لہب کا اصل نام عبدالعزٰی تھا۔ قرآن مجید میں صرف اسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں بھی اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طو رپر بھی کم نہ تھے۔ یہ شخص مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے قریبی ہمسایہ تھا، دونوں گھروں کے درمیا ن صرف ایک دیوار حائل تھی۔ یہ اور اس کے اہل خانہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی چین لینے نہیں دیا تھا۔ آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے
Sunday, January 27, 2013
موسیقی کاانسانی جذبات پر گہرے اثرات۔ یہ انسانی احساسات اور جذبات کو قابو کرتی ہے
از افسر خان
انسانی جذبات بہت منفرد ہیں اور کبھی کبھی لوگوں بہت زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں اور ان پر ہیجانی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جب وہ کچھ مخصوص موسیقی یا گانے، نغمے سنتے ہیں جو ان کے مزاج کی نمائندگی کرتے ہوں۔ یہ موسیقی کی انفرادی خصوصیت ہے کہ یہ ہمارے دماغ پرجلد حاوی ہوجاتا ہے ۔ یہ اچھے موڈ اور برے موڈ کے لئے بہترین محرک فراہم کرتا ہے ۔
Tuesday, December 18, 2012
انسان کا بنیادی فرض یہ ہے
انسان کا بنیادی فرض یہ ہے کہ اپنے نفس کوبے نیازی کی تربیت دے اور طمع کا شکار نہ ہو۔اس کے بعد کوئی پریشانی آجائے تو صبر کو شعاربنائے اور ہر ایک سے فریاد نہ کرے کہ اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جائے ۔اور جب بولنے کا وقت آئے تو فکر کو زبان پر حاکم بنائے اور زبان کو نفس کا حاکم نہ بنادے کہ جو چاہے کہنا شروع کردے ۔
حضرت علی علیہ السلام کے فرامین
( فتنہ
وفساد کے زمانہ میں اس طرح رہو جس طرح دو سال کا اونٹنی کابچہ ہوتا ہے کہ نہ اس کی
پشت سواری کے قابل ہوتی ہے اور نہ اس کے دوہنے کے لائق تھن ہوتے ہیں )
اس ارشاد کا مقصد فتنہ و فساد سے الگ رہ جانا نہیں ہے کہ
یہ اسلام کے مجاہدانہ مزاج کے خلاف ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان اس قدر ہوشیار
رہے کہ لوگ اسے استعمال نہ کرنے پائیں اور اس کے ذریعہ فتنہ کی ہوا کو تیز تر نہ کرنے
پائیں جو آج کل عموماً ہورا ہے۔






